کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 64
درمیان حدِ فاصل ہے۔ دل کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے زیادہ جوڑنے والا، غیر اللہ کی سب سے زیادہ نفی کرنے والا، تزکیہ نفس میں سب سے مؤثر ، باطن کی صفائی میں سب سے قوی ، خیالات کو نفس کی خباثت سے سب سے زیادہ دُور کرنے والا او ر شیطان کو سب سے زیادہ دفع کرنے والا ہے۔[1] ز: توحید کا دنیوی سیادت و قیادت کا سبب ہونا دلیل: حضراتِ ائمہ احمد، ترمذی، نسائی ، ابو یعلیٰ، ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’ابو طالب بیمار ہوئے، تو قریش ( کے لوگ) ان کی عیادت کے لیے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بھی) اُن کی تیمار داری کی غرض سے تشریف لائے۔ ان کے سرہانے کی جانب ایک شخص کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابو جہل اُٹھا اور اُس پر بیٹھ گیا۔ انہوں(قریش کے لوگوں) نے ابوطالب کے رُوبرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کرتے ہوئے کہا: ’’ إِنَّ ابْنَ أَخِیْکَ یَقَعُ فِيْٓ آلہَتِنَا۔‘‘ [’’بلاشبہ آپ کے بھتیجے ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہیں۔‘‘] انہوں نے کہا: ’’ مَا شَأْنُ قَوْمِکَ یَشْکُوْنَکَ یَابْنَ أَخِيْ؟‘‘ [1] ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي ۹؍۲۲۹۔