کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 61
د: ایمان کی بلند ترین شاخ دلیل: ایمان کی ساٹھ یا ستر سے کچھ اوپر شاخوں میں سے سب سے بلند و بالا شاخ اسی جملے میں بیان کردہ [عقیدۂ توحید] ہے۔ امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رویت نقل کی ہے،(کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَلْإِیمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُونَ شُعْبَۃً أَوْ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً[1] فَأَفْضَلُہَا قَوْلُ: [ لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ]، وَأَدْنَاہَآ إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیقِ ، وَالْحَیَآئُ شُعْبَۃٌ مِّنْ الْإِیمَانِ۔‘‘ [2] [’’ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر یا ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی فضیلت والی (شاخ) [ لَآ إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ] ہے۔ اور سب سے کم رتبے والی [راستے سے اذیت کو ہٹانا] ہے اور [حیا] ایمان کی (ایک) شاخ ہے۔ ‘‘] شرحِ حدیث: علامہ نووی لکھتے ہیں: [1] (بِضْعٌ وَّ سَبْعُوْنَ شُعْبَۃً أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً) : [سترسے کچھ اوپر یا ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں] صحیح البخاري میں (بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً)۔ [ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں] ہے۔ دونوں روایات درست اور ثابت شدہ ہیں۔ بعض نے کم عدد والی اور بعض نے زیادہ عدد والی روایت کو ترجیح دی ہے۔ حافظ ابن حجر نے تحریر کیا ہے، کہ ایک جیسی خصلتوں کو اکٹھے کرنے سے تعداد کم اور جدا جدا کرنے سے گنتی بڑھ جاتی ہے۔ وَاللّٰہُ تعالٰی أَعلَمُ۔ اور (شُعْبَۃٌ) سے مراد ایمان کی خصلتیں ہیں۔ (ملاحظہ ہو: شرح النووي ۲؍ ۳۔۵ ؛ و فتح الباري ۱؍ ۵۱۔۵۳)۔ [2] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان ، و أفضلہا و أدناہا … ، رقم الحدیث ۵۸ ۔ (۳۵) ، ۱؍ ۶۳۔