کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 60
۲: شیخ سعدی نے قلم بند کیا ہے: ’’ وَفِيْ ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ أَشْرَفَ الْأُمُوْرِ عِلْمُ التَّوْحِیْدِ، لِأَنَّ اللّٰہَ شَہِدَ بِہٖ بِنَفْسِہٖ ، وَ أَشْہَدَ عَلَیْْہِ خَوَاصَّ خَلْقِہٖ۔‘‘[1] [’’اور اس میں اس بات کی دلیل ہے ، کہ بلاشبہ سب باتوں میں سے سب سے شرف و بزرگی والی بات [ علمِ توحید] ہے ، کیونکہ اس کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے او ر اپنی مخلوق میں سے اپنے خواص کو اس پر گواہ ٹھہرایا۔‘‘] تنبیہ: آیت میں {لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ } کے تکرار کی حکمت: اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آیتِ کریمہ میں {لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ}کے جملے کو دو دفعہ ذکر فرمایا ہے۔ قاضی ابو سعود اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’ تَکْرِیْرٌ لِّلتَّأْکِیْدِ وَمَزِیْدُ الْاِعْتِنَآئِ بِمَعْرِفَۃِ أَدِلَّۃِ التَّوْحِیْدِ۔‘‘ [2] [’’ تاکید اور دلائلِ توحید جاننے کے لیے مزید توجہ مبذول کروانے کی خاطر (اسے) دوبارہ ذکر کیا گیا ہے۔‘‘]  [1] تفسیر تیسیر الکریم الرحمٰن ص ۱۲۵(ط: الرسالۃ)۔ [2] تفسیر أبي السعود ۲؍۱۷۔