کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 59
کردہ عقیدے کی حیثیت و اہمیت اور شان و عظمت کو اور زیادہ اُجاگر کرتی ہے۔ ج: اللہ تعالیٰ کا اپنی توحید کی گواہی دینا اس جملے میں بیان کردہ عقیدۂ توحید کی حیثیت و اہمیت اور قدرو منزلت کو اُجاگر کرنے والی ایک بات یہ بھی ہے ، کہ خود اللہ رب العزت نے اس کی گواہی دی ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُواالْعِلْمِ قَآئِمًا مبِالْقِسْطِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ} [1] [اللہ تعالیٰ نے گو اہی دی، کہ بے شک اُن کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور فرشتوں اور علم والوں نے ( بھی)، اس حال میں ، کہ وہ عدل کے ساتھ تدبیر و انتظام کرنے والے ہیں، اُن کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ سب پر غالب، کمال حکمت والے ہیں۔] دو مفسرین کے اقوال: ۱: امام ابن قیم رقم طراز ہیں: اس آیتِ کریمہ میں عقیدۂ توحید کا اثبات اور ان سب گروہوں کی تردید ہے، جن کے باطل عقائد پہلے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، اس آیت میں سب سے جلیل القدر ، سب سے بڑی عظمت والی، سب سے زیادہ عدل و انصاف والی اور سب سے سچی گواہی ہے، جو کہ سب سے بڑی شان و عظمت والے ( اللہ تعالیٰ ) نے ، سب سے بڑی قدرو منزلت والی بات ( عقیدۂ توحید) کی دی ہے۔[2] [1] سورۃ آل عمران؍ الآیۃ ۱۸۔ [2] ملاحظہ ہو: بدائع التفسیر ۱؍ ۲۱۷۔