کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 55
’’ أَيْ ہُوَ الْمُسْتَحِقُّ لِلْعَبُوْدِیَّۃِ لَا غَیْرُ۔‘‘ [1] ’’یعنی وہ ہی عبادت کے حق دار ہیں اور کوئی نہیں۔‘‘ v :شیخ عبد الرحمن سعدی نے لکھا ہے: ’’فَأَخْبَرَ أَنَّہٗ [اللّٰہُ] الَّذِيْ لَہٗ جَمِیْعُ مَعَانِيْ الْأُلُوْہِیَّۃِ ، وَ أَنَّہُ لَا یَسْتَحِقُّ الْأُلُوْہِیَّۃَ وَالْعَبُوْدِیَّۃَ إِلَّا ہُوَ: فَأُلُوْہِیَّۃُ غَیْرِہٖ وَعَبُوْدِیَّۃُ غَیْرِہٖ بَاطِلَۃٌ۔‘‘[2] ’’انہوں نے خبر دی ہے، کہ بلاشبہ [اللہ سبحانہ و تعالیٰ] ہی کے لیے الوہیت کے تمام معانی ہیں اور یقینا ان کے علاوہ کوئی بھی الوہیت وعبودیت کا حق دار نہیں۔ ان کے علاوہ کسی دوسرے کی الوہیت و عبودیت باطل ہے۔‘‘ vi: شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ [لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ] کا معنٰی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وَ مَعْلُوْمٌ أَنَّ الإِثْبَاتَ بَعْدَ النَّفْيِ أَعْظَمُ دَلَا لَۃً فِيْ الْإِثْبَاتِ مِنْ إِثْبَاتٍ مُّجَرَّدٍ بِلَا نَفیٍ ، وَلِہٰذَا صَارَ قَوْلُ {لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ} أَبْلَغُ فِيْ الْإِثْبَاتِ مِنْ قَوْلِ: {اَللّٰہُ إِلٰہٌ وَّاحِدٌ} ۔ جَائَ تْ [لَا ] نَافِیَۃً ، وَ جَائَ تْ [إِلَّا] مُثْبِتَۃً لِیَکُوْنَ ثَمَّ حَصْرٌ وَّقَصْرٌ فِيْ اسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَۃِ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ دُوْنَ غَیْرِہٖ۔[3] (یہ بات) معلوم ہے ، کہ [نفی]کے بعد [اثبات] ، [نفی] کے بغیر [1] تفسیر أبي السعود ۱/۲۴۷۔ [2] تیسیر الکریم الرحمٰن ۱/۲۰۲۔ ط: جدّہ۔ نیز ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۱/۴۱۰ ؛ وفتح البیان ۱/۴۲۰ ؛ وأیسر التفاسیر ۱/۲۰۳۔ [3] اللأٓلِي ء البہیۃ في شرح العقیدۃ الواسطیۃ ۱؍ ۴۲ باختصار۔