کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 54
ا: جملے کا معنٰی اس جملے میں نفی اور اثبات ہے۔ نفی اس بات کی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی عبادت کا مستحق ہو اور اثبات اس بات کا ہے، کہ ہر قسم کی الوہیت و عبودیت کے حق دار صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہیں۔ چھ علماء کے بیانات: i:امام طبری لکھتے ہیں: { لَآ إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ } کا معنٰی یہ ہے: ’’اَلنَّہْيُِ عَنْ أَنْ یُّعْبَدَ شَيْئٌ غَیْرُ اللّٰہِ الْحَيِّ الْقَیُّوْمِ الَّذِيْ صِفَتُہُ مَا وَصَفَہُ نَفْسَہٗ تَعَالٰی ذِکْرُہٗ فِيْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ۔‘‘ [1] ’’اس آیت میں اپنی بیان کردہ صفات والے اللہ حیی و قیوم کے علاوہ کسی بھی چیز کی عبادت کی ممانعت ہے۔‘‘ ii:حافظ ابن کثیر نے قلم بند کیا ہے: ’’ إِخْبَارٌ بِأَنَّہُ الْمُتَفَرِّدُ بِالْإِلٰہِیَّۃِ لِجَمِیْعِ الْخَلَآئِقِ۔‘‘ [2] ’’(اس بات کی) کی خبر ہے، کہ وہ تمام مخلوقات کے لیے تنہا الوہیت والے ہیں۔‘‘ iii:قاضی بیضاوی نے تحریر کیا ہے: ’’وَالْمَعْنٰی أَنَّہٗ الْمُسْتَحِقُّ لِلْعِبَادَۃِ لَا غَیْرُ۔‘‘ [3] ’’معنٰی یہ ہے، کہ وہی عبادت کے مستحق ہیں اور کوئی نہیں۔‘‘ iv:قاضی ابوسعود رقم طراز ہیں: [1] تفسیر الطبري ۵/۳۸۶۔ [2] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۰۔ [3] تفسیر البیضاوي ۱/۱۳۴۔