کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 43
’’إِذَا قَرَأْتَہَا غُدْوَۃً، أُجِرْتَ مِنَّا حَتّٰی تُمْسِيَ، وَإِذَا قَرَأْتَہَا حِیْنَ تُمْسِيْ ، أُجِرْتَ مِنَّا حَتّٰی تُصْبِحَ۔‘‘ ’’اگر تم اسے صبح پڑھو گے، تو شام تک ہم سے محفوظ رکھے جاؤ گے، اور اگر تم اسے شام کو پڑھو گے، تو صبح تک ہم سے محفوظ رکھے جاؤ گے۔‘‘ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس بات کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صَدَقَ الْخَبِیْثُ۔‘‘[1] ’’خبیث نے سچ بات کہی ہے۔‘‘ امام ابن حبان کا حدیث پر تحریر کردہ عنوان: وہ لکھتے ہیں: [ذِکْرُ الْاِحْتِرَازِ مِنَ الشَّیْطَانِ … نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْہُمْ … بِقِرَائَ ۃِ آیَۃِ الْکُرْسِیِّ۔][2] [1] کتاب السنن الکبریٰ، الجزء الثالث من کتاب عمل الیوم واللیلۃ، ذکر ما یجیر من الجن والشیطان…، رقم الحدیث ۱۰۷۹۷/ ۲،۶/۲۳۹؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب قراء ۃ القرآن، رقم الحدیث ۷۸۴، ۳/۶۳۔ ۶۴؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب فضائل القرآن، ۱/۵۶۲؛ وشرح السنۃ، کتاب فضائل القرآن، باب فضل آیۃ الکرسي والآیتین من آخر سورۃ البقرۃ ، رقم الحدیث ۱۱۹۷ ، ۴/۴۶۲۔ ۴۶۳؛ ومجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب الأذکار، باب ما یقول إذا أصبح وإذا أمسٰی، ۱۰/۱۱۷۔ ۱۱۸۔ الفاظِ حدیث المستدرک کے ہیں۔ امام حاکم نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے اور حافظ ذہبی نے اسے [صحیح] کہا ہے۔ حافظ ہیثمی لکھتے ہیں، کہ اسے (امام) طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے [راویان ثقہ] ہیں، شیخ ارناؤوط نے اس کی [سند کو قوی] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المستدرک ۱/۵۶۲ ؛ والتلخیص ۱/۵۶۲؛ ومجمع الزوائد ۱۰/۱۱۸؛ وہامش الإحسان ۳/۶۴)۔ [2] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق ، باب قرآء ۃ القرآن، ۳؍ ۶۳۔ ۶۴۔