کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 40
’’اس نے جھوٹ بولا ہے، اور دروغ گوئی اس کا شیوہ ہے۔‘‘ انہوں نے اسے پھر پکڑلیا، اور کہا: ’’مَآ أَ نَا بِتَارِکِکِ حَتّٰیٓ أَذْہَبَ بِکِ إِلَی النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔‘‘ ’’اب میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو پیش کیے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ وہ کہنے لگی: ’’إِنِّيْ ذَاکِرَۃٌ لَّکَ شَیْئًا: آیَۃَ الْکُرْسِيِّ اِقْرَأْہَا فِيْ بَیْتِکَ، فَلَا یَقْرُبْکَ شَیْطَانٌ وَلَا غَیْرُہٗ۔‘‘ ’’میں تمہیں ایک چیز بتلاتی ہوں: اپنے گھر میں آیت الکرسی پڑھا کرو، شیطان تمہارے نزدیک نہیں آئے گا، اور نہ ہی کوئی اور [ضرر رساں] چیز۔‘‘ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’مَا فَعَلَ أَسِیْرُکَ؟‘‘ ’’تمہارے قیدی نے کیا کیا؟‘‘ انہوں نے بیان کیا، کہ انہوں (یعنی حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ ) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، اس جنّنی کی کہی ہوئی بات بتلائی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صَدَقَتْ، وَہِيَ کَذُوْبٌ۔‘‘[1] [1] الفتح الربانی لترتیب مسند الإمام أحمد، کتاب فضائل القرآن وتفسیرہ وأسباب نزولہ، باب ما جاء في فضل آیۃ الکرسي، رقم الحدیث ۱۹۹، ۱۸/ ۹۳۔۹۴؛ وجامع الترمذي، أبواب فضائل القرآن، باب ما جاء في سورۃ البقرۃ وآیۃ الکرسي، رقم الحدیث ۳۰۴۰، ۸/۱۴۸۔ ۱۵۰۔ الفاظِ حدیث جامع الترمذی کے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے [حسن غریب] کہا ہے، حافظ منذری نے نقد کے بغیر اُن کے [حسن] کہنے کو نقل کیا ہے اور شیخ البانی نے اسے ]صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۸/۱۵۰؛ والترغیب والترہیب ۲/۳۷۴؛ وصحیح سنن الترمذي ۳/۴)۔