کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 38
انسان کا سچے دل سے آیت الکرسی کا پڑھنا، ان کاموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص شیطانی دجل و فریب سے آگ میں داخل ہو یا ایسی محفل میں حاضر ہو، جہاں سیٹیاں اور تالیاں سننے پر شیاطین اتر آئیں اور اس کی زبان سے ایسی گفتگو کرنا شروع کردیں، جسے وہ جانتا بھی نہ ہو، بلکہ بسا اوقات سمجھتا بھی نہ ہو۔‘‘ (ایسے مواقع پر آیت الکرسی کا پڑھنا، ان حرکات کے جھوٹ اور مکر و فریب کو ظاہر کردیتا ہے)۔ علامہ عینی کا قول: انہوں نے تحریر کیا ہے: ’’وَفِیْہِ فَضْلُ آیَۃِ الْکُرْسِيِّ۔‘‘[1] ’’اس میں آیت الکرسی کی فضیلت ہے۔‘‘ ب: امام احمد اور امام ترمذی نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ: ’’بے شک ان کے ہاں [گھر میں] ایک طاق تھا، جس میں کھجوریں تھیں۔ ایک جنّنی وہاں آکر، اس سے کچھ اٹھا کر، لے جایا کرتی تھی۔ اس بارے میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت پیش کی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اِذْہَبْ، إِذَا رَأَیْتَہَا، فَقُلْ: ’’بِسْمِ اللّٰہِ، أَجِیْبِيْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔‘‘ ’’جائیے، جب تم اسے دیکھو، تو کہو: ’’اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوجاؤ۔‘‘ [1] عمدۃ القاری۱۲/۱۴۸۔ نیز دیکھئے: فتح الباري ۴/۴۸۹۔