کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 30
’’بلاشک و شبہ اللہ عزوجل کا اسمِ اعظم قرآن کریم کی تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرۃ، آل عمران اور طٰہٰ میں۔‘‘ (راوی نے بیان کیا) [1]: میں نے اسے تلاش کیا، تو سورۃ البقرہ کی آیت الکرسی [کے جملے] {اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ سورۃ آل عمران [کی آیت] {الٓمَّٓ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} اور سورۃ طہٰ [کی آیت] {وَ عَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ} میں پایا۔‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی رائے : ان کی رائے میں اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم [الْحَيّ] ہے، اور اسی بنا پر قرآن کریم کی عظیم ترین آیت: {اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} ہے۔[2] امام ابن قیم کا بیان: ان کی رائے میں اسم اعظم [اَلْحَيُّ الْقَیُّوْمُ] ہے۔ وہ لکھتے ہیں: اِسْمُ الإِلٰہِ الْأَعْظَمُ اشْتَمَلَا عَلَی اسْ لمِ الْحَیِّ الْقَیُّوْمِ مُقْتَرِنَانِ فَالْکُلُّ مَرْجِعُہَا إِلَی الْاِسْمَیْنِ یَدْ رِيْ ذَاکَ ذُوْ بَصَرٍ بِہٰذَا الشَّأْنِ۔‘‘ [3] [الإلہ (یعنی اللہ تعالیٰ )کا اسم اعظم دو باہمی ملے ہوئے(مبارک) ناموں [اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ] پر مشتمل ہے۔ تمام اسمائے (مبارکہ) انہی دو(مبارک) ناموں کی طرف لوٹتے ہیں۔ [1] یہ راوی: قاسم بن عبدالرحمن ہیں۔ (ملاحظہ ہو: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۲؍ ۳۸۳)۔ [2] ملاحظہ ہو: مجموع الفتاویٰ ۱۸/۳۱۱۔ [3] القصیدۃ النونیۃ، رقمي البیتین ۵۴۳، ۵۴۴، ۱؍۳۳۹۔ نیز ملاحظہ ہو: شرح الشیخ العثیمین ۱؍۳۴۰؛ و تعلیق الشیخ محمد خلیل ہرّاس ۱؍۳۳۹۔۳۴۰۔