کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 28
’’تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر (اپنا دستِ شفقت) مارا اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی قسم! اے ابومنذر تجھے یہ علم مبارک ہو!‘‘ یہ حدیث واضح طور پر دلالت کرتی ہے، کہ آیت الکرسی قرآن کریم کی سب سے زیادہ قدر و منزلت والی آیت شریفہ ہے۔ شیخ الإسلام ابن تیمیہ کا بیان: وہ لکھتے ہیں: ’’وَلَیْسَ فِی الْقُرْآنِ آیَۃٌ وَاحِدَۃٌ تَضَمَّنَتْ مَا تَضَمَّنَتْہُ آیَۃُ الْکُرْسِيِّ۔ وَ إِنَّمَا ذَکَرَ اللّٰہُ فِيْ أَوَّلِ سُوْرَۃِ الْحَدِیْدِ وَ آخِرِ سُوْرَۃِ الْحَشْرِ عِدَّۃَ آیَاتٍ ، لَا آیَۃً وَّاحِدَۃً۔‘‘[1] [جو کچھ آیت الکرسی میں ہے، وہ قرآن کریم کی کسی بھی دوسری ایک آیت میں نہیں ہے، البتہ اللہ تعالیٰ نے (آیت الکرسی میں موجود باتوں کو) سورۃ الحدید کی ابتدائی[2] اور سورۃ الحشر کی آخری آیات میں بیان کیا ہے، لیکن وہ متعدد آیات ہیں، ایک آیت نہیں۔][3]  [1] مجموع الفتاویٰ ۱۷/۱۳۰۔ [2] مراد پہلی آیت: {سَبَّحَ لِلّٰہِ} سے لے کر چھٹی آیت: {وَہُوَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ} تک آیات ہیں۔ وَاللّٰہ تَعَالیٰ أعلَمُ۔ [3] مراد سورت کی آخری تین آیات: {ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِِلٰـہَ اِِلَّا ہُوَ} سے لے کر {وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ} تک ہیں۔ وَاللّٰہ تَعَالٰی أَعْلمُ۔