کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 247
[پس آپ اپنے بہت عظمت والے رب کے نام کے ساتھ تسبیح بیان کیجیے۔] ۲: ارشادِ باری تعالیٰ: {اِِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ}[1] [بلاشبہ وہ بہت عظمت والے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان نہیں رکھتا تھا۔] ۳: ارشادِ باری تعالیٰ: {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ}[2] [پس آپ اپنے بہت عظمت والے رب کے نام کے ساتھ تسبیح پڑھتے رہیے۔] ز: [اَلْعَلِيُّ الْعَظِیْمُ] دونوں ناموں پر مشتمل ایک اور آیت شریفہ: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ}[3] [ان ہی کے لیے ہے، جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہ بہت بلند بہت عظمت والے ہیں۔] ح: جملے میں حصر اور اس کا فائدہ: اس جملے کے دونوں اطراف: [مبتدا] اور [خبر] اسمائے معرفہ میں سے ہیں، [ہُوَ] ضمیر مبتدا ہے، جو کہ اسم معرفہ ہے۔ اسی طرح [اَلْعَلِيُّ] [الْعَظِیْمُ] خبر ہیں، اور دونوں میں سے ہر ایک اسم معرفہ ہے اور مبتدا اور خبر دونوں کا ایسے ہونا، جملے میں حصر کا فائدہ دیتا ہے۔ اس طرح جملے کا معنیٰ یہ ہوگا: [1] سورۃ الحآقۃ / الآیۃ ۳۳۔ [2] سورۃ الحآقۃ / الآیۃ ۵۲۔ [3] سورۃ الشوریٰ / الآیۃ ۴۔