کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 244
[اور ان کے حضور شفاعت کام نہیں دیتی ہے، سوائے اس شخص (کی شفاعت) کے، جس کے لیے وہ اجازت دیں، یہاں تک کہ ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے، (تو) وہ (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں: ’’تمہارے رب نے کیا فرمایا؟‘‘ وہ کہتے ہیں: ’’حق (کہا ہے)‘‘ اور وہی بہت بلند اور بڑی کبریائی والے ہیں۔ ] ۳: ارشادِ باری تعالیٰ: {ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗٓ اِِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ وَاِِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنُوْا فَالْحُکْمُ للّٰه الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ}[1] [وہ اس لیے، کہ جب تنہا اللہ تعالیٰ کو پکارا جاتا تھا، تو تم کفر کرتے تھے اور اگر ان کے ساتھ شریک بنایا جاتا تھا، تو تم یقین کرتے تھے، پس (آج) فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے (یعنی ان کے ہاتھ میں) ہے، جو بہت بلند اور بہت بڑے ہیں۔] ہ: [اَلْعَظِیْمُ] سے مراد: چھ مفسرین کے اقوال: ۱: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: ’’[اَلْعَظِیْمُ] الَّذِيْ قَدْ کَمُلَ فِيْ عَظْمَتِہٖ۔‘‘[2] ’’[اَلْعَظِیْمُ] وہ ذات، جو اپنی عظمت میں درجۂ کمال پر ہے۔ [1] سورۃ المؤمن / الآیۃ ۱۲۔ [2] بحوالہ: تفسیر الطبري ۵/۴۰۵۔