کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 243
حَقِیْقَۃً۔ وَ الْمَقْصُوْدُ أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی مُسْتَوٍ عَلٰی عَرْشِہٖ عَلَی الْحَقِیْقَۃِ، وَ عَرْشُہٗ فَوْقَ مَخْلُوْقَاتِہٖ کُلِّہَا، عَالٍ عَلَیْہَا۔‘‘ [1] [’’وہ واقعی (ایک) کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے … جیسا کہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے بیان فرمایا… حقیقتاً اسے تحریر فرمایا۔ وہ واقعتا اللہ تعالیٰ کے ہاں حقیقت میں عرش کے اوپر ہے۔ (اس ساری بات کا) مقصود یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ حقیقتاً عرش پر مستوی ہیں اور ان کا عرش ساری مخلوقات کے اوپر اور ان سے بلند و بالا ہے۔‘‘] د: اسمِ مبارک [اَلْعَلِیُّ] پر مشتمل دیگرآیات میں سے تین: ۱: ارشادِ باری تعالیٰ: {ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ}[2] [وہ اس لیے، کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی (معبودِ) برحق ہیں اور بلاشبہ وہ ان کے سوا جس چیز کو پکارتے ہیں، وہ باطل ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ ہی سب سے عالی مقام اور سب سے بڑے ہیں۔] ۲: ارشادِ باری تعالیٰ: {وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ حَتّٰٓی اِذَافُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ}[3] [1] شرح کتاب التوحید ۱/۳۳۹۔ [2] سورۃ لقمان / الآیۃ ۳۰۔ [3] سورۃ سبائٍ / الآیۃ ۲۳۔