کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 242
ہیں، تم پر وہ رحم کریں گے، جو آسمان میں ہیں۔‘‘] (یَرْحَمُکُمْ مَنْ فِيْ السَّمَآئِ) [تم پر وہ رحم کریں گے، جو آسمان میں ہیں] کی شرح میں علامہ عظیم آبادی لکھتے ہیں: (مَنْ فِيْ السَّمَآئِ): وہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔[1] شیخ البانی نے تحریر کیا ہے: ’’فَالْحَدِیْثُ مِنَ الْأَدِلَّۃِ الْکَثِیْرَۃِ عَلٰی أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی فَوْقَ الْمَخْلُوْقَاتِ کُلِّہَا۔‘‘[2] [’’اللہ تعالیٰ کے حتمی طور پر تمام مخلوقات کے اوپر ہونے کے بہت زیادہ دلائل میں سے (ایک یہ) حدیث ہے۔‘‘] ۷: امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، (کہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَمَّا قَضَی الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہٗ فَوْقَ عَرْشِہٖ: ’’إِنَّ رَحْمَتِيْ سَبَقَتْ غَضَبِيْ۔‘‘[3] [’’بلاشبہ جب اللہ تعالیٰ تخلیق فرما چکے، تو انہوں نے اپنے پاس عرش پر تحریر فرمایا: ’’یقینا میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔‘‘] شیخ عبداللہ غنیمان[4] رقم طراز ہیں: ’’وَ ہُوَ کِتَابٌ حَقِیْقَۃً کَتَبَہٗ تَعَالٰی، کَمَا ذَکَرَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم حَقِیْقَۃً، وَ ہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَقِیْقَۃً، فَوْقَ عَرْشِہٖ [1] ملاحظہ ہو: عون المعبود ۱۳/۱۹۵۔ [2] سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ۲/۶۳۲۔ [3] صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب (وَ کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ وَ ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ)، جزء من رقم الحدیث ۷۴۲۰، ۱۳/۴۰۳-۴۰۴۔ [4] رئیس قسم الدراسات العلیا (Department of Higher Studies) و مدرس مسجد نبوی شریف۔