کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 241
سَمٰوَاتٍ۔‘‘[1] [’’(حضرت) زینب (بنت جحش)رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی (دیگر) بیویوں پر ازراہِ فخر کہا کرتی تھیں: ’’تمہارے گھر کے لوگوں نے تمہاری شادیاں کروائیں اور میری شادی اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر سے کروائی۔‘‘] اس روایت سے یہ بات واضح ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے اُوپر ہونا، اہلِ ایمان کے ہاں ثابت شدہ بات ہے۔ صرف اہلِ اسلام نہیں، بلکہ سلیم الفطرت ساری مخلوق کی نظر میں یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔ کتاب و سنت اور عقل و فطرت اس پر دلالت کناں ہیں۔[2] ۶: امام ابو دائود اور امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اَلرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُہُمُ الرَّحْمٰنُ۔ اِرْحَمُوْا مَنْ فِيْ الْأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِيْ السَّمَائِ۔‘‘[3] [’’رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتے ہیں، تم اُن پر رحم کرو، جو زمین میں [1] صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب (وَ کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ وَ ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ)، جزء من رقم الحدیث ۷۴۲۰، ۱۳/۴۰۳-۴۰۴۔ [2] ملاحظہ ہو: شرح کتاب التوحید ۱/۳۳۵۔ [3] سنن أبی داود، کتاب الأدب، باب في الرحمۃ، جزء من رقم الحدیث ۴۹۳۱، ۱۳/۱۹۴؛ و جامع الترمذی، أبواب البر و الصلۃ، باب ما جاء في رحمۃ الناس، جزء من رقم الحدیث ۱۹۸۹، ۶/۴۳۔ الفاظِ حدیث جامع الترمذی کے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے [حسن صحیح] اور شیخ البانی نے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۶/۴۴، و صحیح سنن أبي داود ۳/۹۳۳، و صحیح سنن الترمذي ۲/۱۸۰)؛ نیز ملاحظہ ہو: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۲/۶۳۰-۶۳۲۔