کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 239
سات دلائل ملاحظہ فرمائیے: ۱۔ ارشاد باری تعالیٰ: {ئَ اَمِنتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ فَاِِذَا ہِیَ تَمُوْرُ۔ اَمْ اَمِنتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُوْنَ کَیْفَ نَذِیرِ} [1] [کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو، جو آسمان میں ہے، کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دیں، تو وہ حرکت کرنے لگے؟ یا کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو، جو آسمان میں ہے، کہ وہ تم پر پتھرائو والی آندھی بھیج دیں، پھر تم جلد ہی جان لو گے، کہ میرا ڈرانا کیسا ہے؟] علّامہ عظیم آبادی لکھتے ہیں: (أَ أَمِنْتُمْ مَنْ فِی السَّمَآئِ) سے مراد [مَنْ عَلَی السَّمَآئِ] [آسمان کے اوپر سے یعنی عرش سے ہے۔ بسا اوقات [فِيْ] [عَلٰی] کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے، جیسے: (فَسِیْحُوْا فِيالْأَرْضِ) [2] میں [فِيْ] [عَلٰی] کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ [ترجمہ اس طرح ہو گا: [پس تم اس سرزمین پر چلو پھرو] [3] [1] سورۃ الملک/ الآیتین ۱۶-۱۷۔ [2] سورۃ التوبۃ/ جزء من الآیۃ ۲۔ [3] اس بارے میں مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: ’’کتاب الأسماء و الصفات‘‘ للإمام البیہقي ۲/ ۱۳۴۔۱۷۴؛ و ’’خلق أفعال العباد‘‘ للإمام البخاري، صفحات ۴۲۔ ۴۳؛ و’’مختصر کتاب العلو‘‘ للحافظ الذہبي؛ و ’’القصیدۃ النونیۃ‘‘ للإمام ابن القیم، و ’’عون المعبود‘‘ للعظیم ابادي ۱۳/ ۶۔۴۶۔