کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 238
فِيْ کِتَابِہٖ فِيْ آیَاتٍ کَثِیْرَۃٍ، حَتّٰی قَالَ بَعْضُ أَکَابِرِ أَصْحَابِ الشَّافِعِيِّ: ’’فِيْ الْقُرْآنِ أَلْفُ دَلِیْلٍ أَوْ أَزْیَدُ تَدُلُّ عَلٰی أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی عَالٍ عَلَی الْخَلْقِ، وَ أَنَّہٗ فَوْقَ عِبَادِہٖ۔‘‘[1] ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ (مبارک) سے اپنے بارے میں [بالا ہونے، عرش پر بلند ہونے اور اُوپر ہونے کا] وصف بیان کیا ہے۔ (انہوں نے یہ بات) اپنی کتاب (مجید) کی بہت زیادہ آیات میں (بیان فرمائی ہے)، یہاں تک کہ امام شافعی کے بعض اکابر شاگردوں نے کہا: ’’قرآن (کریم) میں [اللہ تعالیٰ کے مخلوق سے بالا اور اپنے بندوں سے اُوپر ہونے] کے ایک ہزار یا اس سے زیادہ دلائل ہیں۔‘‘ ۴: اسی بارے میں امام ابن قیم لکھتے ہیں: ’’وَالظَّاھِرُ الْعَالِيْ الَّذِيْ مَا فَوْقَہٗ شَيْئٌ کَمَا قَدْ قَالَ ذُوْالْبُرْھَانِ‘‘[2] [’’اور (اَلظَّاھِرُ) ایسے بلند، کہ ان کے اُوپر کوئی چیز نہیں، جیسا کہ ذوالبرہان (یعنی دلیل والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے بیان فرمایا۔ ج: اللہ تعالیٰ کے ہر چیز سے اوپر ہونے کے سات دلائل: کتاب و سنّت میں اس کے متعلق بہت کثرت سے دلائل موجود ہیں۔ سابقہ صفحات میں علمائے امت کے بیانات کے ضمن میں ذکر کردہ دلائل کے ساتھ ذیل میں [1] مجموع الفتاویٰ ۵/۱۲۱۔ شیخ الإسلام نے فتاویٰ کی اس جلد میں اس بارے میں بڑی تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ تفصیلی معلومات کے خواہش مند اس کی طرف رجوع فرمائیں۔ نیز ملاحظہ فرمائیے: اللآلي البہیۃ في شرح العقیدۃ الواسطیۃ ۱/۴۹۵-۵۴۵۔ [2] القصیدۃ النونیۃ، رقم البیت ۱۲۶۰، ۲/ ۱۷۰۔