کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 237
’’فَإِنْ قَالَ: ’’إِنَّہٗ عَلَی الْعَرْشِ، وَ لٰکِنْ یَّقُوْلُ: ’’لَآ أَدْرِيْ: اَلْعَرْشُ فِيْ السَّمَآئِ أَمْ فِيْ الْأَرْضِ؟‘‘ [پس اگر اس نے کہا: ’’یقینا وہ عرش پر ہیں۔‘‘ لیکن وہ (یہ بھی) کہتا ہے: ’’میں نہیں جانتا: عرش آسمان میں ہے یا زمین میں ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’ہُوَ کَافِرٌ، لِأَنَّہٗٓ أَنْکَرَ أَنَّہٗ فِيْ السَّمَآئِ۔ فَمَنْ أَنْکَرَ أَنَّہٗ فِيْ السَّمَآئِ، فَقَدْ کَفَرَ۔‘‘[1] [’’وہ کافر ہے، کیونکہ اُس نے ان کے آسمان میں ہونے کا انکار کیا۔ سو جس شخص نے اُن کے آسمان میں ہونے کا انکار کیا، تو یقینا اس نے کفر کیا‘‘]۔ علامہ ابن ابی العز حنفی اس سلسلے میں ایک شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’وَ لَا یُلْتَفَتُ إِلٰی مَنْ أَنْکَرَ ذٰلِکَ مِمَّنْ یَّنْتَسِبْ إِلٰی مَذْہَبِ أَبِيْ حَنِیْفَۃَ، فَقَدْ اِنْتَسَبَ إِلَیْہِ طَوَآئِفُ مُعْتَزِلَۃٍ وَ غَیْرِہِمْ، مُخَالِفُوْنَ لَہٗ فِيْ کَثِیْرٍ مِّنْ اِعْتِقَادَاتِہِمْ۔‘‘[2] [’’(امام) ابو حنیفہ کے مذہب کی طرف اپنی نسبت کرنے والے بعض لوگوں کا اس بارے میں انکار قابلِ توجہ نہیں، کیونکہ معتزلہ وغیرہ لوگوں کے کئی گروہ اُن کی طرف اپنی نسبت کرنے کے باوجود بہت سے عقائد میں ان کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘] ۳: شیخ الإسلام ابن تیمیہ رقم طراز ہیں: ’’قَدْ وَصَفَ اللّٰہُ تَعَالٰی نَفْسَہٗ فِيْ کِتَابِہٖ، وَ عَلٰی لِسَانِ رَسُوْلِہٖ صلي اللّٰه عليه وسلم بِ’’الْعُلُوِّ وَ الْاِسْتِوَآئِ عَلَی الْعَرْشِ، وَ الْفَوْقِیَّۃِ‘‘ [1] شرح الطحاو یۃ في العقیدۃ السلفیۃ ص ۲۶۷ باختصار۔ نیز ملاحظہ فرمائیے: ’’القصیدۃ النونیۃ‘‘ الأبیات ۱۳۷۸۔ ۱۳۸۲، ۲/۲۱۰۔ [2] شرح الطحاویۃ في العقیدۃ السلفیۃ ص ۲۶۷۔