کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 235
’’وَمَعْنَاہَا أَنَّہٗ تَعَالٰی مُحِیْطٌ بِکُلِّ شَيْئٍ، وَ فَوْقَ کُلِّ شَيْئٍ۔‘‘[1] [’’اور اس کا معنیٰ یہ ہے، کہ بلاشبہ (اللہ) سبحانہ و تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والے اور ہر چیز کے اُوپر ہیں۔‘‘] علامہ رحمہ اللہ نے مزید قلم بند کیا ہے: امام مسلم نے ارشادِ تعالیٰ: (ہُوَ الْأَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الْبَاطِنُ) کی تفسیر ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے: [ترجمہ: آپ ہی پہلے ہیں، آپ کے پہلے کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی پیچھے ہیں، آپ کے پیچھے کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی اُوپر ہیں، پس آپ کے اُوپر کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی چھپے ہوئے ہیں، کہ کوئی چیز آپ سے زیادہ پوشیدہ نہیں۔] یہاں [اَلظَّہُوْرُ] سے مراد [اَلْعُلُوُّ] بلندی ہے۔ پس یہ چاروں اسماء (مبارکہ) ایک دوسرے کے مقابل ہیں: ان میں سے دو اسماء (مبارکہ) رب سبحانہ و تعالیٰ کے ازلی و ابدی ہونے کے متعلق اور دو نام ان کے اُوپر ہونے اور قریب ہونے کے بارے میں ہیں۔] [2] علامہ رحمہ اللہ مزید رقم طراز ہیں: ’’وَ مَنْ سَمِعَ أَحَادِیْثَ الرَّسُوْلِ صلي اللّٰه عليه وسلم وَ کَلَامَ السَلَفِ، وَجَدَ مِنْہُ فِيْٓ إِثْبَاتِ الْفَوْقِیَّۃِ مَا لَا یَنْحَصِرُ۔‘‘[3] [1] ا شرح الطحاویۃ في العقیدۃ السلفیۃ ص ۲۵۹۔ [2] المرجع السابق ص ۲۶۱ باختصار۔ [3] المرجع السابق ص ۲۶۲۔