کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 234
’’[اَلْعَلِيُّ] وہ ذات، کہ ان کے اوپر کوئی چیز نہیں اور وہ [اَلْقَاہِرُ] ہیں، کہ جن پر کوئی چیز غالب نہیں۔‘‘ ۶: شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ نے تحریر کیا ہے: ’’(فَالْعَلِيُّ) ہُوَ الَّذِيْ لَہٗ جَمِیْعُ أَنْوَاعِ وَّ أَوْصَافِ الْعُلُوِّ، وَ الْعُلُوُّ ثَلَاثَۃُ أَنْوَاعٍ: ٭عُلُوُّ الذَّاتِ ٭وَ عُلُوُّ الْقَہْرِ ٭وَ عُلُوُّ الْقَدْرِ وَ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ لَہٗ ہٰذِہٖ جَمِیْعًا، لَہٗ عُلُوُّ الذَّاتِ، وَ عُلُوُّ الْقَہْرِ، وَ عُلُوُّ الْقَدْرِ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی (وَ ہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ)[1]،[2] ’’پس (اَلْعَلِيُّ) وہ ذات، کہ اُنہی کے لیے [اَلْعَلُوُّ] [ بلندی]کی یہ ساری انواع و اوصاف ہیں۔ انہی کے لیے [ذات کی بالادستی]، [غلبہ کی برتری] اور [شان و عظمت کی فوقیت] ہے۔ (ان کا ارشادِ عالی ہے) [ترجمہ: اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہیں]۔ ب: اللہ تعالیٰ کے ہر چیز سے اوپر ہونے کے متعلق چار علماء کے بیانات: ۱: امام طحاوی لکھتے ہیں: وَ ہُوَ مُحِیْطٌم بِکُلِّ شَيْئٍ، وَ فَوْقَہٗ۔[3] [اور وہ ہر چیز کا احاطہ کرنے والے اور اس کے اوپر ہیں] ۲: علامہ ابن ابی العز حنفی اس کی شرح میں تحریر کرتے ہیں: [1] سورۃ الأنعام/ جزء من الآیۃ ۱۸۔ [2] اللآلي البہیۃ فی شرح العقیدۃ الواسطیۃ ۱/۲۵۱۔ [3] العقیدۃ الطحاویۃ ص ۲۵۷ باختصار( المطبوع بتحقیق الشیخ أحمد محمد شاکر)۔