کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 231
-۱۰- {وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الَعَظِیْمُ} کی تفسیر ا: [اَلْعَلِيُّ] سے مراد ب: اللہ تعالیٰ کے ہر چیز سے اوپر ہونے کے متعلق تین علماء کے بیانات ج: اللہ تعالیٰ کے ہر چیز سے اوپر ہونے کے سات دلائل د: اسمِ مبارک [اَلْعَلِيُّ] پر مشتمل دیگرآیات میں سے تین ہ: [اَلْعَظِیْمُ] سے مراد و: اسمِ مبارک [اَلْعَظِیْمُ] پر مشتمل دیگر آیات میں سے تین ز: [اَلْعَلِيُّ الْعَظِیْمُ] دونوں ناموں پر مشتمل ایک اور آیت شریفہ ح: جملے میں حصر اور اس کا فائدہ ط: جملے کا ماقبل سے تعلق ا: [اَلْعَلِيُّ] سے مراد: چھ علماء کے اقوال: ۱: امام بغوی رقم طراز ہیں: ’’وَہُوَ [الْعَلِيُّ] الرَّفِیْعُ فَوْقَ خَلْقِہٖ وَالْمُتَعَالِيْ عَنِ الْأَشْیَآئِ وَالْأَنْدَادِ۔ وَقِیْلَ: ’’اَلْعَلِيُّ بِالْمُلْکِ وَالسَّلْطَنَۃِ۔‘‘[1] ’’[وَہُوَ الْعَلِيُّ] اپنی مخلوق سے بہت بلند اور سب چیزوں اور شرکاء[2] [1] تفسیر البغوي ۱/۲۴۰۔ [2] لوگوں کے گمان میں [شرکاء]، لیکن حقیقت میں ان کا کوئی بھی شریک نہ ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔