کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 228
’’{وَلَا یَؤُدُہٗ حِفْظُہُمَا} جملے کا {وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ} جملے پر عطف ہے، کیونکہ یہ اس کا تکملہ ہے۔ اور اس (دوسرے جملے) میں (موجود) ضمیر (ہُمَا) پہلے (جملے) کی طرف لوٹتی ہے یعنی (مقصود یہ ہے، کہ) بلاشبہ جس نے یہ جہاں بنائے ہیں، وہ ان کی حفاظت کرنے سے عاجز نہیں۔‘‘ د: جملے کا فائدہ: {وَ لَا یَؤُدُہٗ حِفْظُہُمَا} سلبی صفت[1] ہے۔ یہ حقیقت معلوم ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کوئی صفت محض سلبی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے سلبی صفات کا ذکر ان کے مقابل صفاتِ کمال کے ثبوت کی غرض سے کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں ذیل میں دو علماء کے اقوال ملاحظہ فرمائیے: ۱: شیخ الإسلام ابن تیمیہ لکھتے ہیں: ’’ وَہٰذَا النَّفْيُ تَضَمَّنَ کَمَالَ قُدْرَتِہٖ، فَإِنَّہٗ مَعَ حِفْظِہٖ للسَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ، لَا یُثْقِلُ ذٰلِکَ عَلَیْہِ، کَمَا یُثْقِلُ عَلٰی مَنْ فِيْ قُوَّتِہٖ ضَعْفٌ۔‘‘[2] ’’اس نفی میں ضمنی طور پر ان کی قدرت کے کمال (کا بیان) ہے، کیونکہ آسمانوں اور زمین کی حفاظت ان پر گراں اور دشوار نہیں، جیسے کہ وہ اس شخص پر ہوتی ہے، جس کی قوت میں کمزوری ہو۔‘‘ ۲: ڈاکٹر صالح الفوزان رقم طراز ہیں: ’’وَ کُلُّ نَفْيٍ فِيْ صِفَاتِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَإِنَّہٗ یَتَضَمَّنُ إِثْبَاتَ [1] ایسی صفت، کہ جس کے ساتھ، کسی میں، کسی بات کا نہ ہونا ،بیان کیا جائے۔ [2] مجموع الفتاویٰ ۱۷/۱۱۰۔ نیز دیکھئے: المرجع السابق ۱۷؍۱۴۲؛ وتفسیر آیۃ الکرسي ص ۲۲۔