کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 224
د: جملے کا ماقبل سے تعلق: شیخ ابن عاشور نے بیان کیا ہے: فِيْ ہٰذِہٖ الْجُمْلَۃِ تَقْرِیْرٌ لِّمَا تَضَمَّنَتْہُ الُجُمُلُ کُلُّہَا مِنْ عَظْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَ کِبْرِیَآئِہٖ وَ عِلْمِہٖ وَ قُدْرَتِہٖ، وَ بَیَانُ عَظْمَۃِ مَخْلُوْقَاتِہٖ الْمُسْتَلْزِمَۃِ عَظْمَۃَ شَانِہٖ۔[1] یہ جملہ، سابقہ تمام جملوں میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور علم و قدرت کی تاکید اور ان کی مخلوقات کی عظمت کی ان باتوں کو بیان کرتا ہے، جو کہ لازمی طور پر اللہ تعالیٰ کی شان و عظمت پر دلالت کرتی ہیں۔ جب صورتِ حال یہ ہے، تو یہ کیونکر مناسب ہوسکتا ہے، کہ اللہ جل جلالہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کی جائے یا عبادت میں کسی اور کو اُن کا شریک ٹھہرایا جائے۔ اس طرح یہ جملہ بھی آیت الکرسی کے اوّلین جملے: [اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ] کی تائید کرتا ہے، کہ عبودیت و الوہیت کے حق دا رصرف اللہ جلّ جلالہ ہیں۔[2] وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔  [1] ملاحظہ ہو: تفسیر التحریر والتنویر ۳/۲۳۔ [2] ملاحظہ ہو: أحسن التفاسیر ۱/۱۹۹۔