کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 223
کہا گیا ہے: ’’ان کی الکرسی ان کا علم ہے۔‘‘ (حضرت) ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھی (یہ قول) منسوب کیا گیا ہے۔ ان سے، جیسا کہ گزر چکا ہے، محفوظ (یعنی ثابت شدہ) وہی ہے، جو (امام) ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ جس کسی نے اس کے علاوہ (کچھ) کہا ہے، اس کے پاس سوائے اٹکل پچو کے کوئی اور دلیل نہیں۔‘‘ ۳: شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے تحریر کیا ہے: [اَلْکُرْسِيُّ] ثَابِتٌم بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَإِجْمَاعِ جَمْہُوْرِ السَّلَفِ، وَقَدْ نُقِلَ عَنْ بَعْضِہِمْ أَنَّ [کُرْسِیَّہٗ] عِلْمُہٗ، وَہُوَ قَوْلٌ ضَعِیْفٌ۔‘‘[1] ’’کتاب و سنت سے [الکرسی] ثابت ہے اور سلف میں سے جمہور کا اس پر اجماع ہے۔ ان میں سے بعض سے نقل کیا گیا ہے، کہ [ان کی کرسی] (سے مراد) [ان کا علم] ہے، (لیکن) وہ کمزور بات ہے۔‘‘ خلاصۂ گفتگو یہ ہے، کہ جیسا کہ آیتِ شریفہ اور حدیثِ شریف میں بیان کیا گیا ہے، [الکرسی] موجود ہے۔ ہم [الکرسی] کے وجود پر ایمان لانے کے پابند ہیں۔ اس کی کیفیت بیان نہیں کی گئی۔ ہمیں نہ تو اس کی کیفیّت کا علم ہے اور نہ ہی اس بارے میں سوال کرنے کا حق ہے۔ [1] مجموع الفتاویٰ ۶/۵۸۴۔