کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 221
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہما أَ نَّہٗ الْعِلْمُ فَلَا یَصِحُّ إِسْنَادُہٗ إِلَیْہِ۔‘‘[1] ’’یہ حدیث {وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ} کی تفسیر کی غرض سے بیان کی گئی ہے اور یہ واضح طور پر بیان کرتی ہے، کہ [الکرسی] مخلوقات میں سے عرش کے بعد سب سے بڑی مستقل موجود چیز ہے اور وہ کوئی معنوی چیز نہیں۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے، جو اس کی تأویل [بادشاہت اور وسیع حکمرانی] سے کرتے ہیں، جیسا کہ بعض تفسیروں میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ تفسیر، کہ اس سے مراد [علم] ہے، کی سند درست نہیں۔‘‘ ج: [اَلْکُرْسِيّ] کے متعلق تین علماء کے بیانات: ۱: امام طحاوی نے قلم بند کیا ہے: ’’وَ الْعَرْشُ وَ الْکُرْسِيُّ حَقٌّ۔‘‘[2] [عرش اور الکرسی برحق ہیں]۔ ۲: علامہ ابن ابی العز حنفی اس کی شرح میں رقم طراز ہیں: وَ أَمَّا الْکُرْسِيُّ فَقَالَ تَعَالٰی: (وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضَ) وَ قَدْ قِیْلَ ہُوَ الْعَرْشُ، وَ الصَّحِیْحُ أَنَّہٗ غَیْرُہٗ۔ نُقِلَ ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہما وَ غَیْرِہٖ۔ رَوَیَ ابْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ فِيْ کِتَابِ صِفَۃِ الْعَرْشِ، وَ الْحَاکِمُ فِيْ مُسْتَدْرَکِہٖ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہما فِيْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی: [1] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث۱۰۹، ص ۱۶۔ [2] العقیدہ الطحاویۃ (المطبوع مع شرح الطحاویۃ) ص ۲۵۴(ط:وزارۃ الشؤون الإسلامیۃ بتحقیق الشیخ أحمد محمد شاکر )۔