کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 219
بَیِّنًا، وَغَلَطُوْا غَلَطًا فَاحِشًا۔[1] ظاہر یہ ہے، کہ کرسی ایک جسم ہے، جس کے متعلق آثار وارد ہوئے ہیں۔ معتزلہ کے ایک گروہ نے اس کے وجود کی نفی کرکے نہایت واضح خطا اور بہت سنگین غلطی کی ہے۔ پھر علامہ شوکانی [الکرسی] کے متعلق دیگر اقوال قلم بند کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وَالْحَقُّ الْقَوْلُ الْأَوَّلُ، وَلَا وَجْہَ لِلْعَدُوْلِ عَنِ الْمَعْنَی الْحَقِیْقِیِّ، إِلَّا مُجَرَّدُ خِیَالَاتٍ تَسَبَّبَتْ عَنْ جَہَالَاتٍ وَضَلَالَاتٍ۔‘‘[2] ’’حق صرف پہلا قول ہے، حقیقی معنیٰ چھوڑ کر کسی دوسرے معنیٰ کی طرف جانے کا کوئی (معقول) سبب نہیں۔ (پہلے قول کے علاوہ دیگر اقوال) محض خیالات ہیں، جو کہ جہالتوں اور گمر اہیوں کی پیداوار ہیں۔‘‘ {وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ} کا معنٰی: علامہشوکانی نے تحریر کیا ہے: ’’أَ نَّہَا …أَيْ السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ… صَارَتْ فِیْہِ، وَأَنَّہٗ وَسِعَہَا۔ وَلَمْ یَضِْقْ عَنْہَا لِکَوْنِہٖ بَسِیْطًا وَّاسِعًا۔‘‘[3] ’’یعنی (سارے) آسمان اور زمین اس (یعنی الکرسی) میں ہیں اور بلاشبہ وہ ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ (یعنی الکرسی) ان (یعنی آسمانوںاور زمین) کا احاطہ کرنے میں کوتاہ نہیں، کیونکہ وہ بہت فراخ اور وسیع ہے۔‘‘ [1] ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۱/۴۱۱۔۴۱۲۔ [2] المرجع السابق ۱/۴۱۲۔ [3] المرجع السابق ۱/۴۱۲۔ نیز ملاحظہ ہو: وفتح البیان ۱/۴۲۳۔