کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 216
جو تمام چیزوں کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ان پر چیزوں میں سے نہ کوئی چھوٹی چیز مخفی ہے اور نہ بڑی۔‘‘ ۲: قاضی بیضاوی نے تحریر کیا ہے: ’’وَعَطْفُہٗ عَلٰی مَا قَبْلَہٗ، لِأَنَّ مَجْمُوْعَہُمَا یَدُلُّ عَلٰی تَفَرُّدِہٖ بِالْعِلْمِ الذَّاتِيْ التَامِّ الدَّالِ عَلٰی وَحْدَانِیَّتِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی۔‘‘[1] وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ ’’ان دونوں جملوں کا ماقبل پر عطف ہے، کیونکہ وہ دونوں جملے مل کر، اللہ تعالیٰ کے کامل علمِ ذاتی کے اعتبار سے، منفرد اور یکتا ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور یہ بات اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کناں ہے۔‘‘ وَاللّٰہُ تَعَالیٰ أَعْلَمُ۔  [1] تفسیر البیضاوي ۱/۱۳۴۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۱/۲۴۸۔