کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 213
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب سمجھنے والے کے متعلق عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان: انہوں نے فرمایا: ’’وَمَنْ زَعَمَ أَنَّہُ صلي اللّٰه عليه وسلم یُخْبِرُ بِمَا یَکُوْنُ فِيْ غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللّٰہِ الْفِرْیَۃَ، وَاللّٰہُ یَقُوْلُ: {قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ}۔‘‘[1]،[2] [اور جس نے گمان کیا، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل کو ہونے والی بات کی خبر دیتے ہیں، تو یقینا اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب نہیں جانتا۔] گفتگو کا خلاصہ یہ ہے، کہ ہر کسی کو اللہ تعالیٰ کے علم سے صرف اتنی بات کی خبر ہے، جو وہ اُسے بتادیں، خواہ وہ فرشتہ ہو یا جنّ یا نبی یا رسول، حتّٰی کہ سیّد الاولین والآخرین، رب العالمین کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی، صرف اسی قدر جانتے تھے، جس قدر اللہ تعالیٰ انہیں آگاہ فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: {وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ} [اور وہ ان کے علم سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے، مگر جو وہ چاہیں]۔ د: جملے کا ماقبل سے تعلق : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ} سے تعلّق: زیرِ تفسیر، یہ جملہ {وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ} اپنے سابقہ جملے (یَعْلَمُ مَا [1] سورۃ النمل / جزء من الآیۃ ۶۵۔ [2] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب معنٰی قول اللّٰہ عزوجل: {وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی}…، جزء من رقم الحدیث ۲۸۷۔ (۱۷۷)، ۱/۱۵۹۔