کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 212
امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ ’’بلاشبہ رِعل، ذَکوان، عُصَیَّہ اور بنولحیان (قبائل) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دشمن کے خلاف مدد طلب کی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاری (صحابہ) کے ساتھ ان کی نصرت فرمائی: ہم انہیں (یعنی ان ستر انصاری صحابہ کو) ان کے زمانے میں قرّاء (قاری حضرات) کہتے تھے۔ وہ دن کو (جنگل سے) لکڑیاں اکٹھی کرتے اور رات کو نماز پڑھتے (یعنی عبادت کرتے) تھے۔ جب یہ حضرات بئرمعونہ (کے مقام پر) [1]پہنچے، تو انہوں نے بے وفائی کرتے ہوئے انہیں قتل کردیا۔ (جب) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی، تو ایک ماہ تک (نمازِ) صبح میں عرب کے قبائلِ رِعل، ذَکوان، عُصَیَّہ اور بنولحیان پر (بددعا کی خاطر) قنوتِ (نازلہ) پڑھتے رہے۔‘‘[2] اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے علم ہوتا، کہ دشمن کے خلاف امداد طلب کرنے کے بہانے بلا کر، آنے والے صحابہ کو، وہ قبائل دھوکے سے قتل کردیں گے، تو کیا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ستّر قاری ساتھیوں کو ان کی طرف روانہ کرتے؟ ربِّ کعبہ کی قسم! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بالکل ایسے نہ کرتے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی اس کا علم تھا، تو پھر … معاذ اللہ… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انہیں ارسال کرنے کو کیا نام دیا جائے گا؟ ایسا کہنے والا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بڑا بہتان باندھتا ہے۔ [1] (بِئْرِ مَعُوْنَہ): بنو ہذیل کے علاقے میں مکہ مکرمہ اور عسفان کے درمیان ایک جگہ۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباری ۷/۳۷۹)۔ [2] صحیح البخاري، کتاب المغازي، باب غزوۃ الرجیع، ورِعل وذَکوان، وبئرمعونۃ، …، رقم الحدیث ۴۰۹۰، ۷/۳۸۵