کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 211
[انہوں نے عرض کیا: ’’آپ (ہر عیب سے) پاک ہیں۔ میرے لیے مناسب ہی نہیں، کہ میں وہ بات کہوں، جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ کہا ہوتا، تو یقینا آپ تو اسے جانتے ہوتے۔ جو میرے نفس میں ہے، آپ جانتے ہیں۔ جو آپ کے نفس میں ہے، میں نہیں جانتا، یقینا آپ ہی تو سب چھپی باتوں کو پوری طرح جاننے والے ہیں۔‘‘] دو مفسرین کے اقوال: ۱: ڈاکٹر محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں: آیت کے اس حصہ میں اس بات کا بھی اعتراف و اعلان ہے، کہ غیب کی باتیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس میں انبیاء اور غیر انبیاء سبھی برابر ہیں۔ انبیاء کو بھی غیب کی وہی باتیں معلوم ہوتی تھیں، جو بذریعہ وحی انہیں بتائی جاتی تھیں۔[1] ۲: حافظ صلاح الدین یوسف رقم طراز ہیں: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کتنے واضح الفاظ میں اپنی بابت علمِ غیب کی نفی فرما رہے ہیں۔‘‘[2] ۱۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادۂ قتل سے بلانے والوں کی طرف ستّر صحابہ کو بھیجنا: رِعل، ذکوان، عصیہ اور بنولحیان قبائل نے اپنے دشمن کے خلاف تعاون کے بہانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کی درخواست کی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نصرت کی غرض سے ستّر قاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھیجا، لیکن ان قبائل نے حضراتِ صحابہ کو دھوکے سے شہید کردیا۔ [1] ملاحظہ ہو: تیسیر الرحمٰن ص ۳۸۳۔ ۳۸۴، حاشیہ (۱۴۲) باختصار۔ [2] تفسیر أحسن البیان، ص ۱۶۴، ف۴۔