کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 210
فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَ نَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ}[1] [اور مچھلی والے (یعنی حضرت یونس علیہ السلام ) کو (یاد کرو)، جب وہ ناراض ہوکر چل دیے، تو سمجھے، کہ ہم ان پر گرفت تنگ نہیں کریں گے، تو انہوں نے اندھیروں میں پکارا، کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ (ہر عیب سے) پاک ہیں۔ یقینا میں ظلم کرنے والوں سے تھا۔ سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔] اگر حضرت یونس علیہ السلام کو پہلے سے علم ہوتا، کہ ناراض ہوکر بستی سے چلے جانے پر اللہ تعالیٰ انہیں اندھیروں میں گرفتار کردیں گے، تو وہ ایسا قدم بالکل نہ اٹھاتے۔ ۱۰: عیسیٰ علیہ السلام کا نفسِ الٰہی میں موجود بات نہ جاننے کا اقرار و اعلان: روزِ قیامت اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے، کہ کیا انہوں نے لوگوں کو یہ حکم دیا، کہ وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انہیں اور ان کی والدہ کو معبود بنالیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب سے اس سوال کے جواب کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقِّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ}[2] [1] سورۃ الأنبیآء/ الآیتین ۸۷۔۸۸۔ [2] سورۃ المآئدۃ / جزء من الآیۃ ۱۱۶۔