کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 209
علامہ قرطبی لکھتے ہیں: ’’أَيْ عَلِمْتُ مَا لَمْ تَعْلَمْہُ مِنَ الْأَمْرِ۔ فَکَانَ فِيْ ہٰذَا رَدٌّ عَلٰی مَنْ قَالَ: ’’إِنَّ الْأَنْبِیَائَ تَعْلَمُ الْغَیْبَ۔‘‘[1] [بے شک مجھے اس بات کی خبر ہوئی ہے، جس کی آپ کو خبر نہیں۔ اس میں اس شخص کی تردید ہے، جو کہتا ہے: ’’بے شک انبیا۔علیہم السلام ۔ غیب جانتے ہیں۔] حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کی تکذیب نہ کی، بلکہ … جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا… انہوں نے کہا: {قَالَ سَنَنظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ۔ اذْہَبْ بِکِتَابِی ہٰذَا فَاَلْقِہْ اِِلَیْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ} [انہوں نے کہا: ’’ہم عنقریب دیکھیں گے، کہ تم نے سچ بولا یا تم جھوٹوں میں سے ہو؟ میری یہ چٹھی لے جاؤ اور ان کی طرف ڈال دو، پھر ان سے الگ ہوجاؤ اور دیکھو، کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں؟‘‘] علمِ غیب رکھنے والا تو اس طرح کی گفتگو نہیں کرتا۔ ۹: یونس علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کے گرفت تنگ نہ کرنے کا سمجھ کر ناراض ہوکر چلے جانا: حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے دعوتِ حق کو قبول نہ کیا، تو انہوں نے عذابِ الٰہی آنے کی دھمکی دی اور خود اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہی، ناراض ہوکر وہاں سے چل دیے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی اور انہیں مچھلی کا لقمہ بنادیا۔[2] اسی قصے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ [1] تفسیر القرطبي ۱۳/۱۸۱۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر أحسن البیان ص ۴۳۱، ف۶۔ نیز پڑھئے: سورۃ الصآفات / الآیات ۱۳۹۔ ۱۴۶۔