کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 206
۷: موسیٰ علیہ السلام کا چھڑی کی سانپ ایسی حرکت دیکھ کر بھاگنا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملنے والے معجزات میں سے ایک یہ تھا، کہ جب وہ اپنی چھڑی کو زمین پر پھینکتے، تو وہ حرکت کرتے ہوئے سانپ کی طرح دکھائی دیتی۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چھڑی میں پہلی مرتبہ یہ تبدیلی دیکھی، تو وہ خوف زدہ ہوکر بھاگ اٹھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں واپس آنے کا حکم دیا اور ڈرنے سے منع فرمایا۔ اس قصے کا ذکر قرآن کریم میں درجِ ذیل الفاظ میں کیا گیا ہے: {وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ}[1] [’’اور آپ اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دیجیے۔‘‘ پس جب انہوں نے اسے ہلتے دیکھا، جیسے کوئی سانپ ہو، تو پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے اور پیچھے مڑ کر (بھی) نہیں دیکھا، (تو آواز آئی): ’’اے موسیٰ! ادھر آئیے اور ڈرئیے نہیں۔ بلاشبہ آپ امن والوں میں سے ہیں۔‘‘] اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو غیب کا علم تھا، تو پھر چھڑی کی تبدیلی پر خوف زدہ ہوکر بھاگنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ ۸: سلیمان علیہ السلام کا ہدہد کی غیر حاضری کے سبب کو نہ جاننا: حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کی حاضری لگائی، تو ہدہد کو غائب پایا۔ سخت غضب ناک ہوئے اور فیصلہ فرمایا، کہ اگر ہدہد غیر حاضری کا معقول عذر پیش نہ کرسکا، تو وہ اسے شدید سزا دیں گے۔ وہ ہدہد کی غیر حاضری کے سبب سے مکمل طور پر بے خبر تھے۔ درجِ ذیل آیات میں اس قصّے کو بیان کیا گیا ہے: [1] سورۃ القصص / الآیۃ ۳۱۔