کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 205
قدر روئے، کہ بینائی ختم ہوگئی۔ دکھ اور افسوس کی شدّت کا یہ عالَم تھا، کہ قریب تھا، کہ وہ خود ختم ہوجاتے۔ اس سارے عرصے میں انہیں اپنے نورِ چشم کے بارے میں کچھ خبر نہیں تھی، کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہے؟ قرآنِ کریم میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی اس کرب ناک کیفیت کا نقشہ بایں الفاظ کھینچا گیا ہے: {وَ تَوَلّٰی عَنْہُمْ وَ قَالَ یٰٓاَسَفٰی عَلٰی یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰہُ مِنَ الْحُزْنِ فَہُوَ کَظِیْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَکُوْنَ مِنَ الْہٰلِکِیْنَ۔ قَالَ اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْٓ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ}[1] [اور انہوں نے ان (یعنی اپنے بیٹوں) سے مُنہ پھیرلیا اور کہا: ’’ہائے افسو س یوسف (کی جدائی) پر‘‘ اور غم سے ان کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں اور وہ اپنا درد و غم دل میں چھپائے رہتے تھے۔ انہوں (یعنی بیٹوں) نے کہا: ’’اللہ تعالیٰ کی قسم! آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ گل کر مرنے کے قریب ہوجائیں گے یا ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ انہوں (یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام ) نے کہا: ’’میں اپنے درد و غم اور حُزن واَلم کا شکوہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے جانتا ہوں، جو کہ تم نہیں جانتے۔] اگر حضرت یعقوب کو اپنے بیٹے …علیہما السلام… کی جگہ اور حیثیت و کیفیت کا علم ہوتا، تو ان کی حالت اس سے یکسر مختلف ہوتی۔ [1] سورۃ یوسف ۔ علیہ السلام ۔ / الآیات ۸۴۔۸۶۔