کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 203
۵: ابراہیم علیہ السلام کا، نتیجے سے بے خبر، بیٹے علیہما السلام کے ذبح کی خاطر، مستعد ہونا: حضرت ابراہیمِ خلیل علیہ السلام حکمِ الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے بیٹے کو ذبح کرنے کی خاطر تیار ہوئے۔ خوش نصیب بیٹا بھی اس قربانی کے لیے آمادہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کو باپ بیٹے کی فرماں برداری پسند آئی اور اپنی جانب سے بیٹے (اسماعیل علیہ السلام ) کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا فرمائی۔ درجِ ذیل آیات میں اس قصّے کو بیان کیا گیا ہے: {فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یَابُنَیَّ اِِنِّیٓ اَرَی فِی الْمَنَامِ اَنِّیٓ اَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرٰی قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیٓ اِِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ۔ فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ۔ وَنَادَیْنَاہُ اَنْ یَّآاِِبْرٰہِیْمُ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا اِِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔ اِِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلَآئُ الْمُبِیْنُ۔ وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْآخِرِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلٰٓی اِِبْرٰہِیْمَ۔ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔ اِِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ}[1] [پھر جب وہ (بچہ) ان (یعنی ابراہیم علیہ السلام ) کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا، تو انہوں نے کہا: ’’اے میرے چھوٹے بیٹے! بے شک میں خواب میں دیکھتا ہوں، کہ واقعی میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، تو دیکھو، تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ انہوں (بیٹے) نے کہا: ’’اے میرے باپ! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، کر گزرئیے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو آپ ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘ [1] سورۃ الصآفات / الآیات ۱۰۲۔۱۱۱۔