کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 202
نصیحت کرتا ہوں، کہ آپ جاہلوں میں سے ہونے سے باز رہیں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’اے میرے رب! بے شک میں آپ سے پناہ چاہتا ہوں، کہ آپ سے اس بات کا سوال کروں، جس کا مجھے کچھ علم نہ ہو اور اگر آپ نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا، تو میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔‘‘] اگر حضرت نوح علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی اللہ تعالیٰ کے ہاں صورتِ حال اور اپنی فریاد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی ہونے والی ناراضی کا پہلے سے علم ہوتا، تو وہ اس بارے میں کبھی لب کشائی نہ کرتے۔ دو مفسرین کے اقوال ۱: شیخ سعدی لکھتے ہیں: ’’وَدَلَّ ہٰذَا عَلٰٓی أَنَّ نُوْحًا ۔ علیہ السلام ۔ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ بِأَنَّ سُؤَالَہٗ لِرَبِّہٖ فِيْ نَجَاۃِ ابْنِہٖ مُحَرَّمٌ۔‘‘[1] ’’یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے، کہ بلاشبہ نوح علیہ السلام کو بالکل علم نہیں تھا، کہ اپنے بیٹے کی نجات کے سلسلے میں اپنے رب تعالیٰ کے حضور، ان کا سوال حرام تھا۔‘‘ ۲: حافظ صلاح الدین یوسف رقم طراز ہیں: ’’اس سے معلوم ہوا، کہ نبی عالم الغیب نہیں ہوتا، اس کو اتنا ہی علم ہوتا ہے، جتنا وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسے عطا فرمادیتا ہے۔ اگر حضرت نوح۔ علیہ السلام ۔ کو پہلے سے علم ہوتا، کہ ان کی درخواست کی پذیرائی نہیں ہوگی، تو یقینا وہ اس سے اجتناب فرماتے۔‘‘[2] [1] تیسیر الکریم الرحمٰن ص ۳۸۳۔ [2] تفسیر أحسن البیان، ص ۲۹۶، ف۳۔