کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 201
وقت تک ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے۔‘‘] اگر حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حواء کو شیطان کے مخفی مکر کی خبر ہوتی، تو وہ اس کی جھوٹی خیرخواہی سے دھوکا نہ کھاتے اور نہ ہی ممنوعہ درخت کا پھل کھاکر پریشان ہوتے۔ ۴: نوح علیہ السلام کی بیٹے کے لیے لاعلمی میں دعا پر اللہ تعالیٰ کی خفگی: حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا دعوتِ حق قبول کیے بغیر طوفان میں غرق ہوا۔ انہوں نے بیٹے کو اپنے اہل میں سے سمجھتے ہوئے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کی، تو ان کی جانب سے شدید ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ نَادٰی نُوْحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَہْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ۔ قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَہْلِکَ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ وَ اِلَّا تَغْفِرْلِیْ وَ تَرْحَمْنِیْٓ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ}[1] [اور نوح۔ علیہ السلام ۔ نے اپنے رب کو پکارا اور کہا: ’’اے میرے رب! بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ اور یقینا آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے اور آپ سب فیصلہ کرنے والوں سے بڑے فیصلہ کرنے والے ہیں۔‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’اے نوح! بلاشبہ وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے۔ درحقیقت وہ (یعنی اس کے) کام خراب ہیں۔ پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کیجیے، جس کا آپ کو کچھ علم نہیں۔ بے شک میں آپ کو [1] سورۃ ہود ۔ علیہ السلام ۔/ الآیات ۴۵۔۴۷۔