کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 200
تمہیں اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے، کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ یا (جنت میں) ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ اور اُس نے ان دونوں سے قسم کھاکر کہا: ’’بے شک میں تم دونوں کے لیے یقینا خیر خواہوں میں سے ہوں۔‘‘ پس اُس نے اُن دونوں کو دھوکے سے نیچے اتار لیا، پھر جب دونوں نے اس درخت کو چکھا، تو ان کے لیے ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں اور دونوں جنت کے پتّوں سے لے کر اپنے آپ پر چپکانے لگے اور ان دونوں کو ان کے رب نے آواز دی: ’’کیا میں نے تم دونوں کو اُس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تم دونوں سے (نہیں) کہا تھا: ’’بے شک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔‘‘ دونوں نے کہا: ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا، تو ہم یقینا خسارہ پانے والوں سے ضرور ہوجائیں گے۔] سورۃ بقرہ میں ہے: {فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَ قُلْنَا اہْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌ وَّ لَکُمْ فِیْ الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلیٰ حِیْنٍ}[1] [تو شیطان نے دونوں کو اُس سے پھسلادیا، پس اُنہیں وہاں سے نکال دیا، جہاں وہ تھے اور ہم نے کہا: ’’اتر جاؤ، تم سے بعض، بعض کا دشمن ہے۔ تمہارے ہی لیے زمین میں ایک [1] سورۃ البقرۃ / الآیۃ ۳۶۔