کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 199
سے منع فرمایا۔ شیطان ان دونوں کے پاس اپنی محبت، مودّت، اخلاص اور خیر خواہی کا اظہار کرتے ہوئے آیا۔ اس درخت کے پھل کے فوائد بیان کرتے ہوئے اسے کھانے کی ترغیب دی۔ وہ دونوں شیطان کی باتوں میں آگئے اور اس درخت سے کھالیا، جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے عتاب آیا۔ اس واقعہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الأعراف میں درجِ ذیل الفاظ میں فرمایا ہے: {وَ یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ فَکُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَاوٗرِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا وَ قَالَ مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ۔ وَ قَاسَمَہُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ۔ فَدَلّٰہُمَا بِغُرُوْرٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ وَ نَادٰہُمَا رَبُّہُمَآ اَلَمْ اَنْہَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَ اَقُلْ لَّکُمَآ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ}[1] [اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہو۔ پس دونوں جہاں سے چاہو، کھاؤ اور اس درخت کے قریب نہ جانا، کہ دونوں ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ پھر شیطان نے اُن دونوں کے لیے وسوسہ ڈالا، تاکہ وہ اُن کے لیے، ان کی چھپائی گئی شرم گاہوں کو ظاہر کردے اور کہا: ’’تم دونوں کے رب نے، [1] سورۃ الأعراف / الآیات ۱۹۔۲۳۔