کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 198
بڑی بڑی عمارتیں، مجسّمے، حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں بناتے تھے۔ (ہم نے کہا:) ’’اے آل داؤد! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو اور میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔‘‘ پھر جب ہم نے ان پر موت کا فیصلہ کیا، تو ان کی موت کی خبر انہیں زمین کے کیڑے (یعنی دیمک) کے سوا کسی نے نہیں دی، جو ان کی لاٹھی کھاتا رہا۔ پس وہ جب گر پڑے، تو جنوں کی حقیقت کھل گئی، کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے، تو اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔] حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی موت کی کیفیت کو بیان کیا، نیز یہ بھی بتلایا، کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح، مشقت والے کاموں میں ان کے لیے مسخّر کردہ جنّوں سے ان کی موت کو، مخفی رکھا۔ وہ اپنی چھڑی پر ٹیک لگائے، ایک لمبی مدت تک… اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ، مجاہد، حسن، قتادہ اور متعدد دیگر علماء کے بقول قریباً ایک سال تک… کھڑے رہے۔ جب اس چھڑی کو دیمک نے کھالیا، تو وہ کمزور ہوکر زمین پر گرگئی ، تو معلوم ہوگیا، کہ وہ تو ایک طویل مدت پہلے فوت ہوگئے تھے۔ اس طرح جِنّوں اور انسانوں کے لیے بھی واضح ہوگیا، کہ بلاشبہ جنّ علمِ غیب نہیں رکھتے۔ ان کا اپنے بارے میں غیب کا علم رکھنے کا گمان کرنا اور لوگوں کو اس بارے میں وہم میں ڈالنا، درست بات نہیں ہے۔‘‘[1] ۳: آدم علیہ السلام اور اماں حواء کا شیطان کے دھوکے میں آنا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حواء کو ایک درخت کے قریب جانے [1] تفسیر ابن کثیر ۳/۵۸۱۔