کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 197
بے خبر رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ نام نہیں سکھائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: {وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ} [ترجمہ: وہ ان کے علم سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے، مگر جو وہ چاہیں)۔ ۲: جِنّوں کا سلیمان علیہ السلام کی موت سے بے خبر رہنا: جنّ حکمِ الٰہی سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں لگے رہتے تھے۔ وہ ان کے حسبِ حکم عمارتیں تعمیر کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو فوت کیا، تو ایک طویل مدت تک جِنّوں کو اس کی خبر نہ ہوئی۔ اس ساری مدّت میں وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پہلے سے حکم کردہ کام میں جُتے رہے۔ جب اُنہیں اُن کی وفات کا علم ہوا، تو انہوں نے ازراہِ تأسف کہا، کہ اگر انہیں غیب کا علم ہوتا، تو وہ رُسوا کُن عذاب میں نہ رہتے۔ اللہ عزّوجلّ نے اس واقعہ کا بایں الفاظ ذکر فرمایا ہے: {وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ۔ یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍرّٰسِیٰتٍ اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ۔ فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗ فَلَمَّاخَرَّتَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَالَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ}[1] [اور جنّوں میں سے کچھ وہ تھے، جو ان کے رب کے اذن سے ان کے سامنے کام کرتے تھے۔ اور ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تھا، ہم اسے بھڑکتی آگ کا عذاب چکھاتے تھے۔ وہ ان کے حسبِ منشا [1] سورۃ سبائٍ / الآیات ۱۲۔۱۴۔