کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 195
بات اور ہر چیز کے متعلق آگاہی ہوتی ہے۔ ان لوگوں کا یہ تصور آیت الکرسی کے اس جملے سے یکسر متصادم ہے۔ علاوہ ازیں، کتاب و سنّت کے متعدد شواہد اس تصور کی نفی کرتے ہیں۔ انہی شواہد میں سے گیارہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ۱: فرشتوں کو پیش کردہ چیزوں کے ناموں کا علم نہ ہونا: جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو خبر دی، کہ وہ زمین میں خلیفہ بنا رہے ہیں، تو انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ردّ کرتے ہوئے فرمایا، کہ وہ جانتے ہیں اور فرشتے علم نہیں رکھتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے رُوبرو پیش کردہ چیزوں کے ناموں سے ان کی عدم آگاہی سے ان کی لاعلمی کو آشکارا کیا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بایں الفاظ اس واقعہ کو بیان فرمایا: {وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃَ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَ یَسْفِکُ الدِّمَآئَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِاَسْمَآئِ ہٰٓؤُ لَآئِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔ قَالَ یَٓاٰدَمُ اَنْبِئْہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ فَلَمَّآ اَنْبَاَ ہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا کَنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ}[1] [اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا: ’’بے شک میں زمین [1] سورۃ البقرۃ / الآیات ۳۰۔۳۳۔