کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 191
-۷- {وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ} کی تفسیر ا: جملے کے مفردات کے معانی ب: جملے کے معانی ج: مخلوق کے علم کا کامل نہ ہونا ۳: جملے کا ماقبل سے تعلق ا: جملے کے مفردات کے معانی ۱: [یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ] : دو علماء کے اقوال: I: علامہ ابوحیان اندلسی لکھتے ہیں: ’’اَلْإِحَاطَۃُ تَقْتَضِيْ الْحَفُوْفَ بِالشَّيْئِ مِنْ جَمِیْعِ جَِہَاتِہٖ وَالْاِشْتِمَالِ عَلَیْہِ۔‘‘[1] ’’[احاطہ] کا تقاضا تمام اطراف سے چیز کو گھیرنا اور اس پر مشتمل ہونا ہے۔‘‘ ’’وَالْإِحَاطَۃُ بِالشَيْئِ عِلْمًا ہِيَأَنْ تَعْلَمَ وَجُوْدَہٗ، وَجِنْسَہٗ، وََکَیْفِیَّتَہٗ، وَغَرْضَہٗ الْمَقْصُوْدَ بِہٖ، وَبِإِیْجَادِہٖ، وَمَا یَکُوْنُ [1] البحر المحیط ۱/۲۸۹۔