کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 189
تعالیٰ ثواب و عقاب کے مستحق ہونے کے اعتبار سے [شافع] [1] اور [مشفوع لہ] [2] دونوں کے حالات سے آگاہ ہیں، کیونکہ وہ سب معلومات سے باخبر ہیں۔ کوئی مخفی چیز بھی ان سے پوشیدہ نہیں اور شفاعت کرنے والوں کو تو اپنے بارے میں (بھی) یہ خبر نہیں، کہ آیا ان کی (اللہ تعالیٰ کی) اس قدر طاعت گزاری ہے، کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس (یعنی شفاعت کے) عظیم رتبہ کے مستحق ہوں۔ انہیں یہ علم بھی نہیں، کہ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس (یعنی کی جانے والی) شفاعت کی اجازت دی ہے اور (نہ ہی وہ جانتے ہیں،) کہ اس بنا (یعنی بلا اجازت کرنے) پر وہ (اللہ تعالیٰ کی جانب سے) ناراضی اور بازپرس کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس بات پر دلالت کرتا ہے، کہ مخلوقات میں سے کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر شفاعت کا حق نہیں۔‘‘ ۲: شیخ ابن عاشور رقم طراز ہیں: ’’وَ ہِيَ أیْضًا تَعْلِیْلٌ لِّجُمْلَۃِ: {مَنْ ذَا الَّذِيْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ إِلَّا بِاِذْنِہٖ} إِذْ قَدْ یَتَّجِہُ سُؤَالٌ: لِمَاذَا حُرِمُوْا الشَّفَاعَۃَ إِلَّا بَعْدَ الْإِذْنِ؟ فَقِیْلَ: ’’لِأَنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ مَنْ یَّسْتَحِقُّ الشَّفَاعَۃَ، وَ رُبَمَا غَرَّتْہُمْ الظَّوَاہِرُ۔ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَنْ یَّسْتَحِقُّہَا، فَہُوَ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدَیْہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ۔‘‘[3] ’’یہ (جملہ) {مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ} کے سبب کو [1] یعنی شفاعت کرنے والا۔ [2] یعنی جس کے لیے شفاعت کی جائے۔ [3] تفسیر التحریر والتنویر ۳/۲۱۔۲۲۔