کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 188
اے اللہ کریم، ہمیں، ہمارے بہن بھائیوں، نسلوں اور امت کو اس حقیقت کا ادراک و یقین اور اسے ہمیشہ یاد رکھنے کی توفیق نصیب فرمادیجیے۔ إِنَّکَ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ ۔ و: جملے کا ماقبل سے تعلق: اس جملے میں مخلوق کو بلااجازت شفاعت سے محروم کرنے کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ شفاعت کرنے کی صلاحیت اور شفاعت پانے کی اہلیّت کا کماحقہ علم صرف اللہ جلّ جلالہ کو ہے، کسی اور کو نہیں، اسی لیے شفاعت دینے کا اختیار بھی صرف انہی کے شایانِ شان ہے۔ دو مفسرین کے اقوال: ۱: علامہ رازی لکھتے ہیں: ’’وَ اعْلَمْ أَنَّ الْمَقْصُوْدَ بِہٰذَا الْکَلَامِ أَنَّہٗ سُبْحَانَہٗ عَالِمٌم بِأَحْوَالِ الشَّافِعِ وَ المَشْفُوْعِ لَہٗ، فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِاِسْتِحْقَاقِ الثَّوَابِ وَ الْعِقَابِ، لِأَنَّہٗ عَالِمٌم بِجَمِیْعِ الْمَعْلُوْمَاتِ، لَا یَخْفٰی عَلَیْہِ خَافِیَۃٌ۔ وَ الشُّفَعَآئُ لَا یَعْلَمُوْنَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ أَنَّ لَہُمْ مِنَ الطَّاعَۃِ مَا یَسْتَحِقُّوْنَ بِہٖ ہٰذِہِ الْمَنْزِلَۃَ الْعَظِیْمَۃَ عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی۔ وَ لَا یَعْلَمُوْنَ أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی ہَلْ أَذِنَ لَہُمْ فِيْ تِلْکَ الشَّفَاعَۃِ، وَ أَنَّہُمْ یَسْتَحِقُّوْنَ الْمَقْتَ وَ الزَّجْرَ عَلٰی ذٰلِکَ۔ وَ ہٰذَا یَدُلُّ عَلٰٓی أَنَّہٗ لَیْسَ لِأَحَدٍ مِّنَ الْخَلَآئِقِ أَنْ یُّقْدِمَ عَلَی الشَّفَاعَۃِ إِلَّا بِإِذْنِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔‘‘[1] ’’(اچھی طرح) سمجھ لیجیے، کہ اس کلام سے مقصود یہ ہے، کہ (اللہ) سبحانہ و [1] التفسیرالکبیر ۷/۱۱۔ نیز دیکھئے: غرائب القرآن ۳/۱۷۔