کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 182
ہے۔ اس کے یہاں استعمال سے یہ بات واضح ہوتی ہے، کہ ان کے دائرۂ علم میں ہر چیز ہے، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے افعال سے ہو یا بندوں کے افعال سے۔[1] {وَ مَا خَلْفَہُمْ} میں اسم موصول [مَا] کا تکرار اللہ تعالیٰ کے علم کی جامعیت کی تاکید کے لیے ہے۔[2] ج: [اَیْدِیْہِمْ] اور [خَلْفَہُمْ] میں ضمیر [ھُمْ] کا مرجع[3]: اس ضمیر کے مرجع کے متعلق مفسرین کے متعدد اقوال میں سے تین درجِ ذیل ہیں: ۱: آسمانوں اور زمین میں جو کچھ موجود ہے، ان میں سے [عقل والوں] کے لیے یہ ضمیر ہے۔ قاضی ابن عطیہ لکھتے ہیں: ’’[اَیْدِیْہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ] میں (موجود) دونوں (ضمیر [ہُمْ]) آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں میں سے عقل والوں کی طرف لوٹتی ہیں۔‘‘[4] [اس طرح جملے کا ترجمہ ہوگا: [وہ جانتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں عقل والی مخلوق کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔] ۲: ضمیر [ہُمْ] مخلوق کی طرف پلٹتی ہے۔ حافظ ابن جوزی نے تحریر کیا ہے: [1] ملاحظہ ہو: البحر المحیط ۱/۲۸۹؛ وتفسیر آیۃ الکرسي ص ۱۶۔ [2] ملاحظہ ہو: البحر المحیط ۱/۲۸۸۔ [3] یعنی یہ ضمیر (ھُمْ) کس چیز کی طرف پلٹتی ہے؟ مراد یہ ہے، کہ یہاں آگے اور پیچھے کا جو ذکر کیا گیا ہے، وہ کن کے آگے اور پیچھے سے ہے؟ [4] المحرّر الوجیز ۲/۲۷۷۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۳/۲۷۶؛ وکتاب التسہیل ۱/۱۵۹؛ وتفسیر أبي السعود ۱/۲۴۸؛ وفتح القدیر ۱/۴۱۱۔