کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 181
’’دَلِیْلٌ عَلٰی إِحَاطَۃِ عِلْمِہٖ بِجَمِیْعِ الْکَائِنَاتِ مَاضِیْہَا، وَحَاضِرِہَا، وَمُسْتَقْبَلِہَا۔‘‘[1] ’’کائنات کی تمام چیزوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے متعلق اللہ تعالیٰ کے علم کے احاطہ کرنے کی دلیل ہے۔‘‘ ’’وَالْمَقْصُوْدُ أَ نَّہٗ عَالِمٌم بِجَمِیْعِ الْمَعْلُوْمَاتِ، لَا یَخْفٰی عَلَیْہِ شَيْئٌ مِّنْ أَحْوَالِ جَمِیْعِ خَلْقِہٖ، حَتّٰی یَعْلَمَ دَبِیِْبَ النَّمْلَۃِ السَّوْدَآئِ فِيْ اللَّیْلَۃِ الظَّلْمَآئِ عَلَی الصَّخْرَۃِ الصَّمَّآئِ تَحْتَ الْأَرْضِ الْغَبْرَآئِ، وَحَرَکََۃَ الذَّرَّۃِ فِيْ جَوِّ السَّمَآئِ، وَالطَّیْرَ فِيْ الْہَوَآئِ، وَالسَّمْکَ فِيْ الْمَآئِ۔‘‘[2] ’’(اس جملے کا) مقصود یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ تمام معلومات کے ایسے جاننے والے ہیں، کہ مخلوق کے حالات میں سے کوئی بات اُن سے پوشیدہ نہیں، یہاں تک کہ وہ غبار آلود زمین کے نیچے ہر طرف سے بند پتھر کے اوپر تاریک رات میں سیاہ چیونٹی کے چلنے، آسمان کی فضا میں ذرّہ کی حرکت، ہوا میں (اڑنے والے) پرندے اور پانی میں (تیرنے والی) مچھلی سے آگاہ ہیں۔‘‘ ب: اسم موصول [مَا] کا فائدہ اور اس کی تکرار کی حکمت: {یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ} میں اسم موصول [مَا] عموم کے صیغوں میں سے [1] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۱۔ [2] فتح البیان ۱/۴۲۳۔