کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 180
-۶- {یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ} کی تفسیر ا: جملے کا معنیٰ ب: اسم موصول [مَا] کا فائدہ اور اس کی تکرار کی حکمت ج: [اَیْدِیْہِمْ] اور [خَلْفَہُمْ] میں ضمیر [ھُمْ] کا مرجع د: [مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ] اور [وَمَا خَلْفَہُمْ] کی تفسیر میں آٹھ اقوال ہ: علمِ الٰہی کے تمام کائنات کا احاطہ کرنے کے متعلق دیگر چھ آیات و: جملے کا ماقبل سے تعلق ا: جملے کا معنیٰ: تین مفسرین کے اقوال: I: امام طبری: ’’إِنَّہُ الْمُحِیْطُ بِکُلِّ مَا کَانَ، وَبِکُلِّ مَا ہُوَ کَآئِنٌ، عِلْمًا لَا یَخْفٰی عَلَیْہِ شَيْئٍ مِّنْہُ۔‘‘[1] ’’یقینا وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) ہر چیز کا، جو (زمانۂ ماضی میں) تھی اور ہر اس چیز کا جو (اب) ہے اور جو (آئندہ) ہوگی، اپنے علم کے اعتبار سے ایسے احاطہ کیے ہوئے ہیں، کہ اُن سے اُس کے بارے میں کچھ بھی مخفی نہیں۔‘‘ [1] تفسیر الطبري ۵/۳۹۶۔