کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 179
ان کی اجازت کے بغیر شفاعت کرنے کی خاطر آگے بڑھے۔‘‘ ۲: اللہ تعالیٰ کی اجازت سے شفاعت کا ثبوت: علامہ ابوحیان رقم طراز ہیں: ’’وَ دَلَّتِ الْآیَۃُ عَلٰی وُجُوْدِ الشَّفَاعَۃِ بِإِذْنِہٖ تَعَالٰی۔ وَ الْإِذْنُ ہُنَا مَعْنَاہُ : الْأَمْرُ۔‘‘[1] ’’(یہ) آیت (شریفہ) اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاعت کے ہونے پر دلالت کرتی ہے اور [الإذن] کا یہاں معنیٰ: حکم ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِلَّا بِاِذْنِہٖ] [مگر اُن کے اذن کے ساتھ]۔ اور اگر شفاعت ثابت نہ ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ اُس کے ہونے کا استثناء نہ کیا جاتا۔[2] ۳: شفاعت کے لیے اذنِ الٰہی کا ثبوت: اللہ تعالیٰ کی جانب سے شفاعت کی خاطر اجازت کا حاصل ہونا ثابت ہے۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔  [1] البحر المحیط ۱/ ۲۸۸۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر آیۃ الکرسي ص۳۱۔